{"product_id":"taleemat-e-imam-ghazali-maulana-muhamamd-hanif-nadvi","title":"Taleemat e Imam Ghazali Maulana Muhamamd Hanif Nadvi","description":"\u003cnav class=\"wd-breadcrumbs woocommerce-breadcrumb\" aria-label=\"Breadcrumb\"\u003e\u003cspan class=\"wd-last\"\u003eTaleemat e Imam Ghazali Maulana Muhamamd Hanif Nadvi تعلیمات غزالی | مولانا محمد حنیف ندوی\u003c\/span\u003e\u003c\/nav\u003e\u003cnav class=\"wd-breadcrumbs woocommerce-breadcrumb\" aria-label=\"Breadcrumb\"\u003e\n\u003ch5\u003eتعلیمات غزالی\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003e امام غزالی کی ’’احیاء علوم الدین‘‘ ان ابواب کا اردو ترجمہ جن کا تعلق نماز، زکوٰۃ،\u003cbr\u003eروزے، حج وغیرہ اہم مسائل سے ہے\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003eمولانا محمد حنیف ندوی\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003e.مولانا محمد حنیف ندوی (پیدائش: 10 جون، 1908ء – وفات: 12 جولائی، 1987ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے\u003cbr\u003eعالمِ اسلام کے نامور عالمِ دین، محقق، مفسرِ قرآن، فلسفی اور مترجم تھے۔\u003c\/h5\u003e\n\u003ch5\u003eمحمد حنیف ندوی 10 جون، 1908ء کو گوجرانوالہ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نور الدین\u003cbr\u003eلکڑی کا کام کرتے تھے، درویش طبیعت آدمی تھے، مہینے میں ڈیڑھ دو ہفتے کام کرتے اور باقی وقت قرآن مجید پڑھتے اور\u003cbr\u003eعلما کی صحبت میں گزارتے۔ مولانا محمد حنیف ندوی بچپن میں کھیلنے اور گھومنے کے بہت شوقین تھے، مفتی جعفر حسین\u003cbr\u003eان کے بچپن کے دوست تھے، ان کے ساتھ پورے شہر میں گھومتے، ٹہلتے اور گفتگو کرتے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب باقی ہندوستان\u003cbr\u003eکی طرح گوجرانوالہ میں بھی آریہ سماجیوں، قادیانیوں، اہلِ قرآن اور مسیحی پادریوں کے درمیان مناظرے بازی عروج پر تھی۔\u003cbr\u003eمحمد حنیف ندوی کے والد نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کے حلقۂ شاگردی میں دے دیا، چنانچہ مولانا محمد حنیف ندوی نے صرف\u003cbr\u003eو نحو، حدیث معقولات اور ادب کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔ مولانا سلفی نے اپنے شاگرد میں طلب علم کی سچی پیاس دیکھی تو\u003cbr\u003eاسے ندوۃ العلماء لکھنؤ بھجوا دیا۔ وہاں رہ کر محمد حنیف ندوی نے وقت کے جید علما سے قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، معقولات وغیرہ\u003cbr\u003eکی تعلیم مکمل کی۔ عربی میں استعداد اتنی بڑھ گئی کہ کانپور کے ایک جلسے میں قرآن کی زبان کا عربی ادب پر اثر کے موضوع پر\u003cbr\u003eآدھ گھنٹہ تک عربی زبان میں تقریر کی۔ کرسئ صدارت پر حکیم اجمل خان رونق افروز تھے۔ سید سلیمان ندوی نے ان کا تعارف مولانا\u003cbr\u003eظفر علی خان سے بھی کروایا اور کہا: پنجاب کے ہیں۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے۔ قاضی سلیمان منصور پوری سے کہا: یہ آپ کے ہم\u003cbr\u003eمسلک (اہل حدیث) ہیں، چنانچہ وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ حکیم اجمل خان نے کہا:علم میں بڑھے ہو، جسم میں بھی بڑھو۔۔۔ لیکن مولانا بچپن\u003cbr\u003eسے وفات تک دھان پان ہی رہے۔ ندوۃ العلماء کے بارے میں مولانا محمد حنیف ندوی ؒ کا کہنا تھا:ندوہ کے علمی ماحول میں جا کر آدمی ہمہ\u003cbr\u003eوقت علمی مشاغل میں مصروف رہتا ہے۔ عقلیات کی طرف خصوصی توجہ دیتا ہے اور روشن خیال اور غیر متعصب بن کر باہر آتا ہے۔\u003c\/h5\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمحمد حنیف ندوی نے انگریزی زبان پر ذاتی محنت کے ساتھ عبور حاصل کیا۔ وہ قرآن و حدیث اور فقہ و تفسیر کے بھی جید عالم تھے۔\u003cbr\u003eانہیں نہ صرف اسلامی فکرو فلسفے سے خاص دلچسپی تھی، بلکہ وہ جدید مغربی فلسفے سے بھی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ مغربی فلسفے\u003cbr\u003eکا مطالعہ انہوں نے ادارہ ثقافت اسلامیہ سے وابستگی کے بعد کیا۔ اس وقت ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم تھے۔ یہاں ان کی\u003cbr\u003eصحبت میں رہ کر محمد حنیف ندوی کی فلسفیانہ صلاحیتوں کو خوب جِلا ملی۔ چنانچہ محمد حنیف ندوی تاحیات اسی ادارے سے وابستہ رہے\u003cbr\u003eاور قرآن و حدیث اور فلسفہ اسلامی پر گراں قدر کتابیں لکھیں\u003c\/p\u003e\n\u003c\/nav\u003e\n\u003cdiv class=\"wd-products-nav\"\u003e\n\u003cdiv class=\"wd-event-hover\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"adara sakafat e islami","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67809843937594,"sku":null,"price":650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0904\/5835\/8074\/files\/NewProject_24_a899d362-b78c-411a-af3b-8af3d473c8b0.jpg?v=1793098905","url":"https:\/\/khokharbookdepot.com\/products\/taleemat-e-imam-ghazali-maulana-muhamamd-hanif-nadvi","provider":"Khokhar Book Depot","version":"1.0","type":"link"}